مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پیغام میں واضح کیا کہ ویٹکاف سے میرا آخری رابطہ اس وقت ہوا تھا جب امریکی صدر نے سفارت کاری کا خاتمہ اور ایران پر ایک اور غیر قانونی فوجی حملہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد کسی بھی قسم کا رابطہ نہیں ہوا اور جو دعوے اس کے برعکس کیے جا رہے ہیں وہ سراسر جھوٹ اور رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش ہیں۔
سید عباس عراقچی کے بقول، ایسے بے بنیاد بیانات کا مقصد تیل کے خریداروں اور افکار عمومی کو دھوکہ دینا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مغربی ذرائع ابلاغ نے حال ہی میں ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ پس پردہ مذاکرات کی خبریں نشر کی تھیں، جنہیں ایران نے مکمل طور پر جھوٹا قرار دے دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ